کراچی


پنجابی کہاوت ہے “جنے لہور نئیں ویکھیا او جمیا نئیں تے جنے کراچی نئیں ویکھیا، اوہنے کج نئیں ویکھیا” (جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ پیدا نہیں ہوا اور جس نے کراچی نہیں دیکھا اس نے کچھ نہیں دیکھا)۔ لاہور تو بہت بار دیکھ لیا، اب کے کراچی کا سفر نصیب ہوا تو پیدا ہوکر جو”کچھ” دیکھنا رہ گیا تھا، الحمدللہ وہ بھی دیکھ لیا۔ اگر آپ اسلام آباد سے کراچی پہنچیں تو پہلا دھچکہ لگتا ہے جب ڈرائیور سے پوچھیں “ہوٹل کتنی دور ہے” اور وہ کہے “قریب ہے بس 25 منٹ کی ڈرائیو پر” 25 منٹ کی ڈرائیو پر قریب کیسے ہوسکتا ہے بھئی؟؟ اسلام آباد میں 25 منٹ ڈرائیو کریں تو روات بھی کراس کرجاتے ہیں۔ قریب تو 5 منٹ 10 منٹ حد سے حد 15 منٹ ہوسکتا ہے۔ انتہائی لجاجت سے جواب آئے گا “سر کراچی بڑا شہر ہے، ایک ادھ گھنٹا تو اپنے علاقہ سے نکلتے نکلتے لگ جاتا ہے”۔ اس میں واقعی کوئی شک نہیں کہ کراچی شیطان کی آنت کی طرح بہت ہی پھیلا ہوا ہے۔ ایک طرف سندھ کا ہاتھ تھامے دوسری طرف بلوچستان کی دہلیز کو چومے، کراچی سمندر کے طول و عرض پہ پھیلا ہے جس کو یوسفی صاحب نے موسموں کا شہر کہا ہے۔ دو تین دن میں جتنا دیکھ سکے وہ ہمیں پسند آیا۔کراچی کے بارے ہم اسلام آباد سے سن کر آئے تھے کہ موبائل اور بٹوے کا برمودا ٹرائی اینگل ہے اور بلا ضرورت موبائل ہرگز ہرگز جیب سے نہیں نکالنا۔ ہمارا ڈرائیور ہر تھوڑی دیر بعد ہمارے چہرے کے متغیر تاثرات دیکھتا اور تسلی دیتا “سر اب حالات ٹھیک ہوگئے ہیں، گھبرائیں نہیں”۔ موبائل بجتا رہتا اور ہماری نظریں اردگرد گھومتیں اگر کوئی اور موبائل استعمال کرتا دکھائی دیتا تو ہم بھی نکال لیتے۔ بہرصورت ائیرپورٹ سے ہوٹل پہنچتے پہنچتے ہم کراچی سے کافی حد تک مانوس ہوگئے۔ ہوٹل پہنچتے ہی فیس بک پہ “چیک ان” کا فریضہ ادا کیا اور برنس روڈ پہ بریانی کے روبرو حاضری دی، کراچی کے کھانوں کا بھی اپنا ذائقہ ہے، میری سمجھ سے بالاتر ہے لوگ کراچی اور لاہور کا آپس میں موازنہ کیوں کرتے ہیں، دونوں کا اپنا چارم ہے، اپنی کلاس ہے، دونوں اپنی جگہ لاجواب ہیں۔ آپ لاہور پہنچیں تو ایسا لگتا ہے جیسے کوئی بانہیں کھولے آپکی طرف “آ جانی جپھی پا” کہتے ہوئے بڑھ رہا ہے جبکہ کراچی میں لگتا ہے محبوب مسکراتا ہوا سامنے کھڑا ہے اور آپ جتنا قریب ہوتے جاتے ہیں وہ دو قدم دور ہوتا جاتا ہے اور یوں دونوں بہت دور نکل جاتے ہیں۔ محبت دونوں میں ہے، انداز جدا جدا ہے۔

تاریخی و تفریحی مقامات میں مزارِ قائد اور سمندر ایسے ہیں جنکا متبادل اور کہیں نہیں۔ مزارِ قائد تو آجکل اظہارِ محبت کی محفوظ آماجگاہ ہے، وہاں جاکر یہی لگتا ہے کہ قائدِ اعظم نے پاکستان صرف اس لئے بنایا کہ لوگ تسلی سے ڈیٹ مار سکیں۔ باقی رہا سمندر تو یہ کہانی پھر سہی۔ محسن نقوی صاحب اچھے وقتوں میں “بھیگی ریت پہ آوارگی” لکھ آئے، اجکل کے زمانے میں آتے تو آوارگی کی بجائے آلودگی ہی لکھتے۔ آجکل تو کلفٹن کے ساحل کی سلی سلی ہوا ناگواری کا باعث بنتی ہے مگر جانے ابن انشاء اور مشتاق یوسفی صاحب کے زمانے میں کیسی ہوتی ہوگی جو ان ک رگِ ظرافت پھڑکاتی رہی۔ ہم نے بمشکل فریضہ سلیفی ادا کیا اور مالز گھومنے چل دئیے۔ شام کی ہوا البتہ ہمیں بہت بھائی۔

کراچی ایک سمندر جس کا ہر قطرہ جدا ہے کوئی دور کسی پہاڑ کی کوکھ سے جنم لیا ہے تو کوئی کسی جھرنے سے گرا ہے، کسی نے دریا سے چھلانگ لگائی ہے تو کوئی کسی برساتی نالے سے ٹپکا ہے مگر سمندر میں آتے ہی سب سمندر ہوجاتے ہیں۔ کراچی میں پاکستان بھر سے لوگ اپنی انفرادیت لیئے ہوئے آتے اور سما جاتے ہیں، قریب سے دیکھو تو بھانت بھانت کے لوگ اور دور سے دیکھو تو سبھی کراچی والے، جنکا مجموعی مزاج ایک سا ہے۔

کراچی، شادی جیسا ہے۔ شروع شروع میں سب اچھا لگتا ہے، پھر نقص نظر آنے شروع ہوتے ہیں، اکتاہٹ ہوتی ہے اور پھر دھیرے دھیرے عادت ہوجاتی ہے۔ کراچی کا دنیا بھر کے شہروں میں وہی مقام ہے جو آلو کا بریانی میں۔ ابھی کیلئے بس اتنا ہی، باقی انشاءاللہ اگلے چکر پہ۔

8 thoughts on “کراچی

Add yours

  1. کراچی، شادی جیسا ہے۔ شروع شروع میں سب اچھا لگتا ہے، پھر نقص نظر آنے شروع ہوتے ہیں، اکتاہٹ ہوتی ہے اور پھر دھیرے دھیرے عادت ہوجاتی ہے۔

    This is the masterpiece sentence… 👏👏

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: