اپنے مطلب کو ہنستا ہوں، مطلب کو رولیتا ہوںآج کا انساں ہوں، جیسا وقت ہو ویسا ہو لیتا ہوںمجھے اپنے مفاد عزیز تر ہیں لوگوں سےجو میرے حق میں ہو میں اسی کا ہو لیتا ہوںمجھ سے وابستہ لوگ میری مجبوری ہیںمیرا کیا ہے، میں بھوکا بھی سو لیتا ہوںغیر وطن میں سب یاد بہت... Continue Reading →