مڈ لائف کرائسس


بہار کی ایک خوبصورت سہ پہر ہے، آپ اپنے بچوں، بھتیجے بھانجوں کے ساتھ پکنک پہ آئے ہیں۔ کھیل کود کے بعد پسینے میں شرابور، بچوں کو پاپڑ کرارے اور چھلی ریت والی دلا کر آپ نے اپنے پاپڑ کا پہلا ہی کڑچ کیا اور مصالحہ، جو آپ نے بچوں پہ امپریشن جمانے کیلئے زیادہ ڈلوایا تھا، چھن سے آپ کے نتھنوں میں جا بسا، پسینے کی برکت سے جو ذرہ جہاں پہنچا، چپک گیا، چھنک آتی ہے مگر باعثِ احتیاط روکنی پڑتی ہے، آپ انگلی سے ناک صاف کرنے کے ارادے سے انگلی جیسے ہی ناک میں گھماتے ہیں تو یاد آتا ہے کہ بچے کو چھلی پہ لیموں کیساتھ نمک مرچ لگا کر آپ نے خود دیا تھا، لیموں مصالحہ لگی انگلی ناک کی سی سی میں اور اضافہ کرتی ہیں اور مصالحہ آنکھوں کے کناروں پہ ٹمٹماجاتا ہے، مگر ضبط لازم ہے۔ زندگی میں جب ایسی صورتحال، جہاں آپ سمجھدار بھی ہوں اور آپ کی غلطی کم  ہو مگر پھر بھی کھجل بہتیرا ہوجائیں، روز مرہ کی بنیاد پہ آنا شروع ہوجائے تو سمجھ جایئے آپ مڈلائف کرائسس کا شکار ہیں۔

midlife crisis

مڈ لائف کرائسس سال و سن سے بے نیاز ہے۔ یہ 35 سے لے کرک 55 سال کی عمر تک کسی بھی وقت شروع ہوسکتا ہے۔ مڈلائف کرائسس عمر کے اس حصے میں آتا ہے جب بوجہِ سال و سن  یا مال و دولت گھر بار میں آپ کو عقلمند باور کروایا جاتا ہے، گھر اور دفتر میں آپ کے مشورہ پہ عمل کیا جاتا ہے، آپکی رائے کا احترام کیا جاتا ہے ۔  یہیں سے خرابی شروع ہوتی ہے۔  دوسروں کی دیکھا دیکھی آپ بھی خود کو عقلِ کل سمجھنا شروع کردیتے ہیں حالانکہ انکی تو مجبوری ہوئی۔  پہلا مسئلہ تو یہ آتا ہے کہ سب کو مشورے دے کر آپ کے پاس خود کیلئے کچھ بچتا نہیں، دوسرا، بزعمِ عقلمندی آپ اپنی باتیں، سوچیں فکریں کسی سے بیان نہیں کرتے  چھوتی چھوٹی باتیں رائی سے پہاڑ بن جاتی ہیں۔ یہ سب جونک کی طرح چمٹتے جاتے ہیں اور وقت مقررہ رفتار سے گرزتا جاتا ہے، آپ آہستہ آہستہ ضروری سے غیر اہم ہوتے جاتے ہیں۔ دفتر میں جو آپ کبھی روحِ رواں ہوتے تھے اب فقط شریکِ کارواں ہیں، عہدہ ہوتے ہوئے بھی آپ خود سے کچھ نہیں کرتے، ماتحت بتاتے ہیں کہ یہ کررہے ہیں، وہ کرنے والے ہیں، مشورہ دیں تو آجکل اسی کا رواج ہے سننے کو ملتا ہے، بچے آپ سے زیادہ پڑھ لکھ کر آپکی نہیں سنتے۔ گھر میں بھی “دفتروں تھک کے آئے ہووگے، ہنڑ سوں جاؤ۔۔” کے پسِ پردہ  آپکی ازدواجی زندگی بھی  بے رنگ اور پھیکی ہوتی جاتی ہے، پلے لسٹ یو یو ہنی سنگھ کی بجائے مکیش، رفیع، جگجیت سنگھ  اور پنکج اداس  پہ منتمج ہوتی ہے۔  راتوں کو اٹھ اٹھ کر ،

؎ اب سوچے کیا ہونا ہے  جو ہو گا اچھا ہوگا

پہلے سوچا ہوتا پاگل اب رونے سے کیا ہوگا

آج کسی نے دل توڑا توجیسے دھیان آیا

جسکا دل ہم نے توڑا ہے وہ جانے کیسا ہوگا

سنتے ہیں۔ پھر بیس سال اور آٹھ بچوں کے بعد خیال آتا ہے کہ “میری تو زندگی برباد  ہوگئی، مجھے تو سچا پیار ہی نہیں ملا”۔ جذباتی و معاشی استحکام “بڈھے وارے عشق پیا کرنا ایں۔۔” کے دروازے کھولتا ہے اور بندہ بچوں کو بیاہنے کی عمر میں سہرا باندھ بیٹھتا ہے۔ دوسرا سہرا چونکہ سب کے نصیب میں نہیں ہوتا  تو اکثریت نشہ  یا جوا شروع کردیتے ہیں۔   جو کہتے ہیں کہ “بڑھاپے کے بگڑے نہیں سدھرتے” وہ دراصل مڈلائف کرائسس کا شکار ہی ہوتے ہیں۔

مڈلائف کرائسس دراصل خوداعتمادی کی تیزی سے کمی اور ناکامی کے خوف  کے سبب دانستہ چولیں مارنے کا  نام ہے۔ خواتین اور مردوں میں اسکی وجوہات و علامات و کیفیات یکسر مختلف ہوتی ہیں۔ مثلاً خواتین میں اکثر ساس بنتے ہی اسکا شکار ہوجاتی ہیں۔ کچن، جو انکی آماجگاہ ہوتی تھی وہ بہو کے حوالے کردیا، بیٹا جو “امی آپ جیسا کھانا کوئی نہیں بناتا” کہتے نہیں تھکتا تھا اب بیوی کی بدذائقہ کوکنگ کا اسیر ہے۔ “امی جیسے آپ کہیں” سے “ہمارے گھر تو ایسا ہی ہوتا ہے” کا سفر مڈلائف کرائسسز کا سب سے بڑا  موجب ہیں۔ پھر کھانے پکانے، اوڑھنے بچھونے میں نقص نکلنے شروع ہوتے ہیں اور بات بیٹے کی طلاق اور اپنے برین ہمیرج تک جاپہنچتی ہے۔ سرکاری افسروں میں  مڈ لائف کرائسس عموماً 55 سال کی عمر کے بعد اس سوچ سے شروع ہوتا ہے کہ بس چند ہی سالوں میں ریٹائر ہونا ہے، زندگی بھر عیاشی کی ہے کام کاج آتا نہیں، گھر  بیٹھ کر کیا کریں گےاسی غم کو  غلط کرنے کے چکر میں اواخرِ سروس میں سرکاری افسران ایسے ایسے کارنامے سرانجام دیتے ہیں جو کہ یاد رکھے جائیں اور وہ پوسٹ ریٹائرمنٹ انکے لئے حظ کا سامان ہوں، وجہ شہرت ہوں ۔ ناکامی کی صورت میں اکثر ریٹائر ہوتے ہی فوت ہوجاتے ہیں باقی حسبِ توفیق نانا، دادا، تجزیہ نگار بن جاتے ہیں۔  آپ تھوڑی نطر گھمائیں، ٹی وی پہ چلتے ٹکرز اور ٹاک شوز  میں ریمارکس ڈسکس ہوتے دیکھیں، انشاءاللہ سمجھ جائیں گے۔

One thought on “مڈ لائف کرائسس

Add yours

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: