آم کے دام


آموں کا یوں ہے کہ بہت خاص ہوتے ہیں۔ آم کو اگر اشرف الفروٹ کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا۔ جیسے شیر جنگل کا بادشاہ ہے ایسے ہی آم پھلوں کا بادشاہ ہے۔ شرافت کا پیکر ہونے کے باوجود آم کی اکثریت کے نام ایسے ہیں جیسےانڈر ورلڈ ڈان ہوں لنگڑا، انور رٹول، سندھڑی، فجری، مالدہ وغیرہ۔ ‏‏

انسان نے بہت ترقی کرلی، زمین کی کوکھ میں جا اترا، چاند پہ کمند ڈال لی، خلاؤں کا سینہ چیر لیا، سیاروں کے اوزان ماپ لئیے، ایسی ایسی مافوق الفطرت ایجادات کرڈالیں مگر آم کی مٹھاس ماپنے کیلئے کوئی مشین ایجاد نہ کرسکا!

ویسے محتاط اندازے کے مطابق آم کی مٹھاس وصل کی سی ہے، اک آن میٹھا اک آن ترش اور ہر آن رسیلا۔تحقیق سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ آم اور محبت دونوں ہونے چاہئیں انے واہ۔ بقول شاعر،

؀ آم ہو کہ محبت، ہم کو

ہر شہ چاہئیے حد سے زیادہ

اسی طرح عصر حاضر کے تمام تر طمطراق و دریافات کے باوجود آم اور فالودہ کھانے کا کوئی معقول و قابل ستائش طریقہ دریافت نہیں ہوسکا و گرنہ عامر لیاقت کا آم کھائے گا آم وقوع پذیر نہ ہوتا۔ بغیر کیمرہ نماز تک نہ پڑھنے والے کسی بڑے لیڈر کی آم کھاتے تصویر ضرور نظر آتی۔ بزرگ کہتے ہیں آم اور محبوب دونوں ایک ساتھ میسر ہوں تو محبوب کو پہلے بھگتانا چاہئے۔ ایک تو یہ کہ محبوب کےسامنے ندیدوں کی طرح کارگر ہوکر ہاتھ منہ پہ آم ملے گا تو کیا محبت باقی رہے گی، دوسرا آم کی موجودگی میں محبوب کے نظرانداز ہونے اور اس سے پیدا شدہ پیچیدہ حالات کا احتمال وغیرہ۔

آم کا پھلوں میں وہی مقام ہے جو محبوب کا جملہ حسیناؤں میں، غالب کا عام شاعروں میں۔ غالب سے یاد آیا آم اکرم الشعرإ مرزا غالب کو بے حد محبوب تھے۔ قرین قیاس ہے غالب کی اکثر شاعری کا مخطوب کوئی اور محبوب نہیں بلکہ آم ہی ہے۔ مثال کے طور پہ سردیوں کے موسم میں غالب نے آموں کی جدائی سے سرشار ہو کر کہا تھا،

؀ یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا

اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا

غالب بیچارے تو خیر آموں کے ہاتھوں بدنام بھی ہوئے، مفت کے آم مانگتے اور تقاضائے شعری کے باعث مے لکھتے رہے۔

؀ کھلتا کسی پہ کیوں میرے دل کا معاملہ

آموں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے

رسوا سے یاد آیا سستے رومانس کی ملکہ ٹھمکم نصیبو لعل صاحبہ بھی آم چوری کرنے باغ میں گئیں اور پکڑی گئیں۔

؀گو ذرا سی بات مگر اندیشہ عجم نے

بڑھا دی فقط زیبِ آئٹم سانگ کیلئے

اسی لئیے تو ٹیپو سلطان مرحوم نے کہا تھا کہ دو درجن کیلوں سے ایک آم ہے۔ ٹیپو سلطان بھی کمال آدمی تھے۔ دنیا جہان کا پتہ تھا ماسوائے اپنی کچن کیبنٹ میں گھس بیٹھے فراڈیوں کے۔ ویسے یہ مرض تو ٹیپو ثانی کو بھی لاحق ہے، خیر۔

ٹیپو ثانی سے یاد آیا گدھا آم نہیں کھاتا۔ بظاہر اس میں ایسی کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔ گدھے کی مرضی، یوں تو وہ بینگن کا بھرتہ، ماش کی دال، چکن جلفریزی، ادرک وغیرہم سے بھی بے رغبتی برتتا ہے، گدھا جو ہوا۔ اعتراض کی بات یہ ہے کہ گدھے کا آم نہ کھانا اور اس بات کو بڑھا چڑھا کہ پیش کرنا آم کیلئے کوئی باعث افتخار نہیں، برائے مہربانی احتیاط کیا کریں۔ کہاں آم کہاں گدھا۔ تاریخ کی کتابوں میں درج ہے کہ انگریز مصالحوں کا بہانہ بنا کر پس پردہ دراصل آموں کی محبت میں یہاں آن اترے تھے۔ کتابوں میں تو سکندر اعظم، نادر شاہ اور اکبر بادشاہ وغیرہ کی پیش رفت کو بھی درپردہ آم ہی کی محبت میں گردانا جاتا ہے۔ کہنے والے تو یہاں تک کہتے ہیں کہ ہیر نے سیالوں کا رشتہ ہی ان کے آموں کے باغ دیکھ کر قبول ہے قبول ہے قبول ہے کیا تھا۔ واللہ اعلم۔ فی الحال تھوڑے کو غنیمت جانیں، اور دعا کریں اس مہنگائی کے دور میں جبکہ گٹھلیوں کی گٹھلیاں، آموں کے دام ہیں۔ تمام محبان کو آم سستے اور میٹھے آم نصیب ہوں، آمین۔

One thought on “آم کے دام

Add yours

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: