غزل | وہ بھی بدلتا رہا موسموں کے ساتھ


خود کی تلاش میں نکلے تھے دوستوں کے ساتھمنزلیں پھر بدلتی رہیں راستوں کے ساتھیاد وہ آتا ہے مجھ کو مکمل حوالوں کے ساتھمٹی کی خوشبو جیسے بارشوں کے ساتھکہانی محبت کی بس اتنی سی ہےوہ بھی بدلتا رہا موسموں کے ساتھرات باقی تھی مگر چاند سوگیا تھک کرجاگتا ہوا میری خواہشوں کے ساتھکارِ دنیا …

Advertisements

اداسی


تم سے جو دور ہوں میںبہت مجبور ہوں میںگم سم گم سم پھرتا ہوںبوجھل بوجھل رہتا ہوںروتا ہوں نہ ہنستا ہوںدیواریں تکتا رہتا ہوںاور کسی سے نہ کہتا ہوںآئینے سے باتیں کرتا ہوںدکھنے لگے اب احساس میرےاور تم بھی نہیں ہو پاس میرےدیکھو میرا جیون بھیاس کمرے جیسا خالی ہےآجاؤ اب تم پاس میرےدلدار میرے، …

وڈا صاحب


کہتے ہیں قسمت خراب ہو تو اونٹ پر بیٹھے بھی کتا کاٹ لیتا۔ بس یونہی سمجھئے ہم بھی ایک اونٹ پر بیٹھے تھے کہ "دُور کے سہانے ڈھولوں" پیچھے خود کو کارپوریٹ کتے سے کٹوا لیا۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ اسکے "ٹیکے" پیٹ میں نہیں لگتے  اور جہاں لگتے ہیں دکھتے بھی بہت ہیں۔ …

غزل | تیری عنایتوں پہ گلہ نہیں ہرچند بے معنی و بے اثر ہیں


تیری عنایتوں پہ گلہ نہیں ہرچند بے معنی و بے اثر ہیںکہ میرا  کُل اثاثہ ،  لفظ  ہیں یہی ، سو  تیری  نذر  ہیںخود  فریبی  کے ریگزاروں سے آگے  نکل کے دیکھوسب   کے   پاؤں  چھلنی  مگر  سبھی   عازمِ   سفر   ہیںکس  کو  دوں  صدائیں ، کون  میری  اب  سُنے  گا ؟میں کہ غریب ٹھہرا  اور ہمسفر …