علامہ اقبال شاعری والے


؎   وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا

     کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

دادا مرحوم نے سارا بچپن اس شعر کو بطور بیستی کا پیش لفظ استعمال کیا، ہم سوچتے تھے کہ شاعر نے پتہ نہیں کس کونٹیکسٹ میں کہا ہوگا مگر بڑے ہوئے تو پتہ چلا کہ دادا مرحوم انفرادی بیستی کیلئے استعمال کرکے رعایت برتتے رہے جبکہ شاعر محترم نے بیک جنبشِ قلم پوری قوم کو رگڑا لگایا ہوا ہے۔ یہ انقلابی شاعر کوئی اور نہیں، اپنے ہردلعزیز علامہ اقبال صاحب تھے جنہیں قوم شاعرِ مشرق کے نام سے جانتی ہے۔

اقبال کی شاعری سے ہمارا پہلا واسطہ تب پڑا جب ایک روز اچانک ہمیں اسمبلی میں ‘لب پہ آتی ہے’ سنانے کو کہا گیا، چند اشعار آدھے یاد تھے، باقی کے الفاظ آگے پیچھے،  باتیں سننی پڑیں تو بڑی کھچیچیاں چڑھیں کہ اقبال اگر یہ نہ لکھتے تو کیا ہوجاتا۔ ہمارے دل میں گرہ سی پڑ گئی مگر بھلا ہو اساتذہ کا جنہوں نے فضائلِ اقبال سے روشناس کروایا۔ اقبال، ہمارے خیال میں ہمہ جہت شخصیت کے حامل تھے جس کا احاطہ چند الفاظ میں کرنا مشکل ہے، چیدہ چیدہ حوالے دے کر اوشیئن کو پاؤچ میں کنٹین کرنے کی کوشش اقبال کے اس شعر سے،

؎              اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے

                 شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات

اقبال مرحوم کا سب سے بڑا کارنامہ ہر موقع کے برمحل شعر کہنا ہے۔ نرسری سے لے کر پی ایچ ڈی کی کتابوں تک میں اقبال کا کلام شامل کیا جاتا ہے۔ اتنی ورائٹی تو “نئی ورائٹی آگئی ہے” والے لان پرنٹوں  پر نہیں ہوتی جتنی ماشاءاللہ اقبال کے کلام میں ہے۔ آپ کوئی موقع اٹھائیں اور دیکھیں اقبال نے اسکے لئے کچھ نہ کچھ کہہ رکھا ہوگا۔اقبال کے اشعار ہر مکتبہ فکر کی حمایت میں فٹ کیئے جاسکتے ہیں، یہی انکے کلام کی خوبی ہے۔ خوشہء گندم کو آگ بھی لگواتے ہیں اور طائرِ لاہوتی کو کوتاہیء پرواز پہ وفات کا مشورہ بھی دیتے ہیں۔

اقبال کا دوسرا بڑا کارنامہ وفات کے بعد بھی شعر کہتے رہنا ہے۔ آپ گوگل کرکے دیکھ لیں، شاعرِ مشرق کے نام سے منسوب ایسا ایسا بعد از مغرب شعر مارکیٹ میں آچکا ہے کہ وصی شاہ شرما جائے، جسکا امکان تقریباً ناممکن ہے کیونکہ،

؎ چائے بنائی ہے ایک کپ

   افسوس آج تو بھی فراموش ہوگیا

اقبال کے اس ہر موقع کی مناسبت سے شعر کہنے کی عادت نے ہمیں انکا بہت گرویدہ بنایا۔ اپنی ذات کی طرح ہمہ جہت شعر ہیں کہ آٹھ دس شعر یاد ہوں تو بیس تیس مواقع آرام سے نمٹ جاتے ہیں۔ اور ہمیشہ سے یہی بتایا گیا کہ جتنے زیادہ شعروں کا ریفرنس دیا ہو اتنے نمبر زیادہ ملتے ہیں۔ اس بات کا عملی ثبوت تو آجکل کے عدالتی فیصلوں تک میں جھلکتا ہے۔

بر محل شعروں کے علاوہ بارہویں جماعت تک اقبال مضمون لکھنے میں بھی بہت کام آئے۔ میری پسندید شخصیت، میرا پسندیدہ شاعر، قومی شاعر، تحریکِ پاکستان کے بے لوث سپاہی اور شاعرِ مشرق جیسے عنوانات پر تو ہم بے دریغ صفحہ کے اوپر 786 لکھتے اور،

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

سے شروع ہو کر نان سٹاپ

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے

پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے

پر اختتام  بریک لگاتے۔ کئی مرتبہ جوشِ طباعت میں 1940 والی قرارداد بھی اقبال سے پیش کروا دی اور انہوں نے کربھی دی، ہمارے اساتذہ اقبال سے شاید بغض رکھتے تھے اسلئے کبھی یہ سعادت انکو نصیب نہ ہونے دی ۔

اقبال بزلہ سنج طبیعت کے شخص تھے، زیادہ پڑھ لکھ گئے اور اردگرد کے لوگ جاہل ہی رہے۔ جرمنی سے پی ایچ ڈی ڈاکٹر بن کے آئے تو لوگوں نے ایم بی بی ایس والا سمجھ کر خوب ناک کان گلا چیک کروایا  اور اقبال نے کیا بھی۔ اسی شغل شغل میں قوم کی نبض اقبال کے ہاتھ آگئی۔ اوائلِ عمری سے با وزن وبا اخلاق شعر توکہتے ہی تھے، محبوب کا جذبہ حُب نہ جاگا  تو اقبال نے اسی شاعری سے قوم کے سوئے نوجوان اٹھانے کا کام لینا شروع کردیا جو ایم بی بی ایس والی ڈاکٹری سے زیادہ چلا۔ اقبال کو پرندوں خصوصاً شاہین سے بہت لگاؤ تھا، شاید یہی وجہ ہے کہ موقع بموقع، شعر بشعر شاہین اڑایا ہوا ہے۔ چند ناعاقبت اندیش شاہین کو آزادی، خودمختاری وغیرہم کا استعارہ کہنے کی بجائے بچپن کی ناکام محبت کا حاصل گردانتے ہیں، اس بارے میں راوی، جہلم اور ستلج تمام خاموش ہیں۔

اقبال کی شاعری خانقاہ، مشاعرے ، رسالے اور طوائف کے کوٹھے پہ یکساں مقبول ہوئی۔ بچوں کو گائے اور بکری کے آرہے لگا کر، نوجواں مسلم کو وہ کیا گردوں تھا، تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا پہ دعوتِ تدبر دیتے ہیں۔ بقول شاعر،

؎ نیک نے نیک سمجھا، بد نے بد جانا مجھے

جس کا جتنا ظرف تھا، اتنا پہچانا مجھے

Allama Iqbal, Iqbal Dayہم نے بچپن سے اقبال کو ہمیشہ گہری سوچ میں ڈوبا دیکھا، بڑے ہوئے تو معلوم ہوا کہ ایک تو وہ فلاسفر تھے دوسرا مفکرِ پاکستان تھے، اسلئے ہر تصویر اسی پوز میں کھنچوانا مجبوری ٹھہرا۔ پوز یہ کہ ایک ہاتھ سے سر کی ٹیک لگا کر کچی پنسل منہ میں دبائے دور افق پہ اڑتے شاہین کو دیکھ رہے ہوتے۔ اس مستقل پوز کی وجہ آج تک کوئی سکالر بیان نہ کرسکا، قرین قیاس ہے کہ یہ عبدالغفور فوٹوگرافر ساکن اکبری منڈی لاہور کی ذہنی اختراع تھی جس کا مقصد صرف اپنی فوٹوگرافری کی مشہوری تھا، واللہ اعلم بالصواب۔

شاعری کے علاوہ اقبال کی فلاسفری بھی بے حد مشہور ہوئی، لیکن چونکہ وہ انگریزی زبان میں تھی اس لئے نوجوانوں اور مولویوں نے یکساں نظر انداز کی۔ اہلِ فرنگ نےفلسفہ خودی سے بہت کچھ حاصل کیا، جرمنی والوں نے ہمارے اقبال ہالز کی دیکھا دیکھی انکے نام سے سڑک بھی منسوب کردی۔  چونکہ اقبال قیامِ پاکستان سے پہلے ہی وفات پاچکے تھے اسلئے عہدوں کی دوڑ میں شامل نہ ہوئے اور بلا مقابلہ شاعرِ مشرق، مفکرِ پاکستان اور حکیم الامت قرار پائے۔ آپکا مزار بادشاہی مسجد کے احاطے میں ہے جو عید شبرات پہ پھول چڑھانے، گارڈز کی تبدیلی کی تقریب اور غیر ملکی وفود کو گھمانے کے واسطے کام آتا ہے۔

 وطنِ عزیز میں گزشتہ ہفتے سے “اقبال ڈے” کی چھٹی بہت شدومد سے ڈسکس ہورہی تھی، پوچھنے والے نے بے دھیانی میں پوچھا اقبال ڈے ہے کیا، بتانے والے نے بتایا، اپنے علامہ اقبال شاعری والے کا یومِ پیدائش ہے۔

قوم  پورا سال اقبال کو اتنا یاد نہیں کرتی جتنا نومبر کے پہلے ہفتے، چھٹی مل جائے تو فیس بک پہ  اقبال کی شاعری دھڑا دھڑ پوسٹتے ہیں، ورنہ فراموش تو ہیں ہی۔ حالیہ اقبال ڈے کی چھٹی کی منسوخی پہ روحِ اقبال گورنمنٹ سے پوچھتی ہے  “فیر میں ناں ہی سمجھاں؟”

—–٭٭٭٭٭——-

 

3 Replies to “علامہ اقبال شاعری والے”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s