ویلنٹائن ڈے منانا حرام ہے


ابھی یاد نہیں آرہا آپ اپنی پسند کا کوئی اچھا، رومانٹک سا شعر سوچ کے یہاں فٹ کرلیں پلیز۔ 1990 کی دہائی کی بات ہے۔ سردیوں کی خوبصورت دوپہر تھی، وہ درخت کی اوٹ سے چھپا سامنے گیٹ کھلنے کا انتظار کررہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد گھنٹی بجی اور خوبرو حسیناؤں کا جیسے سیلاب ہی امڈ آیا۔ وہ درخت کی اوٹ سے برآمد ہوا اور خراماں خراماں  چلتا ہوا ایک پری وش کے سامنے جاکھڑا ہوا۔ مسکرا کے اسے دیکھا، گڈ مڈ انگریزی میں دو تین الفاظ ادا کیئے اور ہاتھ میں تھاما ہوا گلاب کا نسبتاً مرجھایا پھول آگے بڑھا دیا۔ لڑکی ابھی صورتحال پوری طرح سمجھ کے جوابی کاروائی کرنے بھی نا پائی تھی کے شپاخ شپاخ دو زناٹے  دار تھپڑ اسے اپنی گردن اور گالوں پہ بالترتیب محسوس ہوئے اور جس جواب کا اسے لڑکی کے پنکھڑی جیسے ہونٹوں سے انتظار تھا وہ سکول کے بھاری بھرکم چوکیدار نے موقع کی مناسبت جانچتے ہوئے دیا”ٹھہر جا ذرا، ویلنٹائن ڈے دا بچہ”  گال سہلاتے جونؔ ایلیا سے منسوب اس شعر کی عملی توجیہ بنے اسے وہاں سے بھاگتے ہی بنی۔

؎  چاہ میں اسکی طمانچے کھائے ہیں

دیکھ لو سرخی میرے رخسار کی

یہ ویلنٹائن ڈے سے اسکا پہلا تعارف تھا۔ اس نے سنا تھا کہ اس دن کسی بھی لڑکی سے اظہارِ محبت کرو تو وہ “ناں” نہیں کرتی۔ مگر شاید یہ نہیں سنا تھا کہ لڑکی کی مرضی بغیر کرو تو چپیڑیں بھی  پڑتی ہیں۔

وقت کا پہیہ چلتا رہا، وہ سکول سے نکل کر کالج پہنچ گیا اور سن و سال کے اعتبار سے تھوڑا سیانا بھی۔ موقع محل دیکھ کر کیسے اور کیا بات کرنی ہے اس نے سیکھ لی۔ انکے کالج کا ٹرپ اکثر “تعلیمی دوروں” پہ جاتا رہتا اور شہر کے “دیگر کالج” بھی ان دوروں پہ جاتے۔ انہی تعلیمی دوروں کے بیچ کتابوں کے پیچھے چھپا ایک کتابی چہرہ گلابی آنکھیں اسے بھائیں، ماضی کی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے اس نے پہلے پورا ہوم ورک کیا اور موقع دیکھ کر تیر چلایا جو سہی نشانے پہ جا بیٹھا۔ زندگی میں پہلی بار کسی غیر محرم نے  بغیر کسی کام کے اسکی بات کا جواب دیا، خوشی کے مارے اسکے پاؤں زمیں پر نہیں ٹک رہے تھے۔ خیر، وقت گزرتا رہا وہ تھوڑا تھوڑا میچور ہوتا رہا، گھر سے غائب کردہ جیولری گفٹس کے سائے تلے اسکا عشق دن دگنی رات چوگنی ترقی کرنے لگا۔ وقت گزرتا رہا اور  ایک بار پھر ویلنٹائن ڈے آن پہنچا۔ ماضی کی تلخیاں بھلا کر وہ خوش و خرم ایک ریستوران میں سیلیبریٹ کرنے چلا گیا۔

ویلنٹائن ڈےسرخ جوڑے میں تو آج وہ حور پری لگ رہی تھی، اس نے پکا سوچ رکھا تھا کہ آج پرپوز کر ہی دے گا۔ ابھی دونوں خوش  گپیوں میں مصروف تھے  کہ اچانک شپاخ کی دلخراش اور مانوس آواز اسکے کانوں میں گونجی اور اسکے بدن میں ٹیسیں  اٹھنے لگیں۔ حواس بحال ہونے لگے تو اسے احساس ہوا کہ موصوفہ کا بھائی رنگ میں بھنگ ڈالنے پہنچ چکا  ہے۔ خیر، مرتا کیا نا کرتا اسے وہاں سے بھاگتے ہی بنی۔ یہ ویلنٹائن ڈے سے اسکا دوسرا  تعارف تھا۔ آج اس نے سیکھا کہ ویلنٹائن منانے کیلئے صرف لڑکی کی رضامندی ضروری نہیں بلکہ ایسی جگہ بھی ضروری ہے ‘جتھے بندہ نا بندے دی ذات ہووے’۔

وقت کا پہیہ پھر دگڑ دگڑ گھومنے لگا،  وہ کالج سے نکل کر یونیورسٹی آگیا اور ماضی کی ستم ظریفیوں کے سبب عشق سے کنارہ کرلیا۔ وقت یونہی گزرتا رہا ، کئی ویلنٹائن ڈے آئے اور وہ ن م راشد کا حسن کوزہ گر بنا رہا ،

؎ جہاں زاد، نو سال دیوانہ پھرتا رھا ھوں!

یہ وہ دور تھا جس میں میں نے

کبھی اپنے رنجورماضی  کی جانب

پلٹ کر نہ دیکھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب جبکہ قسمت کی لکیریں بھی مٹنے لگیں تو اسکے نصیب جاگے۔ نوکری لگنے کی دیر تھی کہ  محلے کی ایک دوشیزہ نے اسے پیام بھیجا، اکتائے ذہن نے بغیر دیکھے، سوچے، ملے زنانہ نام پڑھ کر ہی پیام قبول کرلیا۔ محبت ابھی ابتدائی خط و کتابت پر ہی تھی کہ ایک دن ننھا اسلم جو محلے بھر کے خفیہ معاشقوں کا بلا مقابلہ منتخب قاصد تھا وہ انکا خط غلطی سے اسکے بھائی  کی دوکان پہ بھول آیا جس میں ویلنٹائن ڈے پہ خفیہ ملاقات کا پلان لکھا تھا۔ اس نے سوچا  اب کی بار پھر وہی تھپڑوں کی بارش اور پتہ نہیں کیا ہو، لیکن اس بار تھپڑوں سے زیادہ بری ہوئی، محلے داری کو رشتے داری میں بدل دیا گیا۔  شادی کیلئے چودہ فروری یعنی ویلنٹائن ڈے چنا گیا۔ حجلہ عروسی میں تیز دھڑکتے دل کیساتھ داخل ہوا ، سجی سنوری دلہن گھونگھٹ نکالے بیٹھی تھی، اس نے زیر لب گنگنا شروع کردیا ،

؎ سہاگ رات ہے گھونگھٹ اٹھا رہا ہوں میں

سمٹ رہی ہے تو شرما کے اپنی بانہوں میں

گنگناتے گنگناتے اس نے گھونگھٹ اٹھایا تو اسکی چیخ حلق میں آکے پھنس گئی اور بے اختیار اسکے منہ سے نکلا، ‘ایس تو چنگا مینوں چپیڑاں ہی مار لوو’ – بے ڈھنگے میک اپ میں لت پت اسکے بچپن کی نفرت “پینو” مسکرا رہی تھی۔ نگاہوں کے سامنے بچپن کا فلیش بیک چلنا شروع ہوگیا  – اور وہ فرطِ یاداشت سے بیہوش ہوکر سوگیا۔

یہ ویلنٹائن ڈے سے اسکا آخری  اور بھیانک ترین  تعارف تھا۔  اسکی لوو میرج کو کافی سال گز چکے ہیں، جس میں سے میرج باقی ہے اور لوو گھونگھٹ اٹھنے کیساتھ ہی رخصت ہوگیا تھا۔ اب ہر سال وہ چودہ فروری کو ختم دلواتا ہے اور فیس بک، ٹوئیٹر پہ ایمان افروز پوسٹس کے علاوہ پرچے چھپوا کر بانٹتا بھی ہے اور لوگوں کو سمجھاتا پھرتا ہے کہ “ویلنٹائن منانا حرام ہے”

Published on chaikhana blog: http://chaikhanah.com/2016/02/15/valentine1/

2 thoughts on “ویلنٹائن ڈے منانا حرام ہے

Add yours

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: