Tahir-ul-Qadri and Doomsday Conspiracy


Originally Published on Pak Tea House. Ok this comes in a little late as I was confused on 21st December about what to do.  Curse Mayan calendar for wrongly scaring the whole world for nothing, watch the movie 2012 again and laugh or consider it alright as self-claimed “Sheikh-ul-Islam” Prof. Dr. Tahir-ul-Qadri was “launched” in Pakistan on... Continue Reading →

نظم | زندگی


تجھ سے بچھڑا تو یوں لگتا تھاجیسے زندگی ہی تمام ہوئی ہےتیرے چہرے کی ضو نہ رہی تو زندگی کی شام ہوئی ہےمیں سوچتا تھا، تکمیلِ آرذو نہیں تو زندگی کسی کام کی نہیںمگر اب یہ مجھکو احساس ہوا ہےخوابوں کے جزیروں سے پرے بھیزیست کا نشاں ہے آباد حقیقت کا اک جہاں ہےوہ جنکے خواب... Continue Reading →

ترکِ مراسم


صبحیں بھی وہی، ہے شام بھی وہیکاروبارِ ہستی بھی، زیست کا ہنگام بھی وہیغمِ ہستی بھی وہی، دردِ انجام بھی وہیہم بھی وہی، تلخیء ایام بھی وہیہاں مگر تم سے بچھڑ کر اب ہر پلدل بوجھل بوجھل رہتا ہےاور سچ بھی ہے کہ جیتے جیتےمرنا کس کو اچھا لگتا ہےپر سچ سنتی ہو تو دیکھومجھ... Continue Reading →

اداس ہونے کا یہ موسم نہیں ہے


ابھی تو مرحلے اور بھی ہیں کٹھن کئیاداس   ہونے   کا  یہ  موسم  نہیں  ہےزمانے  بھر  کے  غم   ہیں  دامن  گیرہر  چند   اک   تیرا    غم    نہیں   ہےکیا  بچھڑنے والے کی یاد  میں کڑھناکسی  کا  بھی ساتھ یہاں  پیہم نہیں ہےشاید تو نے بھی فراموش کردیا مجھےگریہ  میں  آج  وہ  لذت  غم  نہیں  ہےabhi to marhaly aur... Continue Reading →

غزل | عمر بھر یونہی مجھے چاہتے رہنا


جیسے    اب    چاہتے    ہو    بے    سببعمر   بھر   یونہی   مجھے   چاہتے   رہناوقت   اک   سا    نہیں   رہتا  ،  پھر   بھیعہد   جو   کیا   ہے  ،   وہ   نباہتے   رہنادل  ہے  کہ  دربار  شاہی  کا  وزیر کوئیہر  اک  ادا... Continue Reading →

گونگلواں دی مٹی


First published on 20th November 2012  دراصل عزت ماب صدرِ پاکستان جناب آصف علی زرداری کے دورہ و خطاب خیبر پختونخواہ سے متعلق ہے۔ پوسٹ کے عنوان کی وضاحت کرتا چلوں یہ ایک پنجابی محاورہ ہے جسے عرفِ عام میں کسی کو ٹالنے کے معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے، جسے فرازؔ نے یوں بیان کیا  ... Continue Reading →

نظم | کوئٹہ


گرد گرد منظر ہیںزرد زرد چہرے ہیںدیوار و در سے بے جھجکافتادگی عیاں ہےمیرے شہر میں لوگ اباپنے سائے سے بھی ڈرتے ہیںمسکراہٹیں ندارد ، اب توبات بھی احتیاط سے کرتے ہیںبین کرتی ماوں کی صدائیںروز کا منظر بن چکینفرتیں سرایت ہیں چار سوپنڈی سے کوئٹہ، خیبر سے کراچیبے سمت ہو چکا ہے قافلہغپر اٹھائے... Continue Reading →

نظم | میری محبت


میری محبت کوئلوں جیسی ہےکہ جلتی بجھتی رہتی ہےکبھی یہ گماں بھی ہوتا ہےکہ کوئلہ بجھ چکا ہوگامگر پھر اچانک سےذرا سے ہوا کے جھونکے سےسرخی دمکنے لگتی ہےآگ بھڑکنے لگتیپھر وہی حرارت ہوگیہھر وہی شرارت ہوگیمیری محبت اس ننھے بلب جیسی ہےجو گھر کے باہر لان میںمدتوں جلتا رہتا ہےدن کو سورج کی روشنی... Continue Reading →

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: