آپ نے نہاری پیک کروائی اور دکان سے نکلنے ہی والے ہیں کہ ایک نامانوس سی آواز کانوں میں گھسے گی 'پائی جان شاپر ڈبل کرالو نئیں تے رُڑ جائیگی جے" ایسے بہت سے خدائی خدمتگار ہر روز متعدد بار آپکو کسی نہ کسی معاملے میں مفید مشورہ دیتے ملیں گے وہ بھی فائدے نقصان... Continue Reading →
غزل | یوں فراموش کروں تم کو کہ عمر بھر یاد آ نہ سکو
یوں فراموش کروں تم کو کہ عمر بھر یاد آ نہ سکواور مجھ کو جو بھو لنا چاہو تو پھر بھلا نہ سکونہ اس قدر بے رخی سے پیش آؤ آج کہ کل سرِ راہ گزر ملو کہیں تو نظر بھی ملا نہ سکوہم کو گلہ نہیں مگر پندارِ محبت کی ہے یہ تمنایاد ہم دلائیں... Continue Reading →
تبدیلی
نوٹ: اس پوسٹ سے کسی کی دل آزاری مقصود نہیں اور نہ ہی کسی سیاسی ایجنڈے کی ترویج مطلوب ہے۔ الیکشن کی آمد آمد ہے سو ہم نے بھی سوچا بہتی گنگا میں اپنی رائے سے ہاتھ دھو لیں! کافی سال پہلے یعنی اپنے بچپن میں سیاسی پسِ منظر کی ایک'بین شدہ' کتاب پڑھنے کا... Continue Reading →
وجودِ زن و تصویرِ کائنات کے رنگ
کل یار دوستوں کی 'گوگل ہینگ آؤٹ' میں بات ہوئی کہ مزاح میں ہم صرف صنفِ نازک کا ہی سہارا کیوں لیتے ہیں۔ تو بات ذہن میں اٹک گئی۔ وہ علامہ اقبالؔ مرحوم نے ایویں نئیں کہا تھا 'وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ' کچھ بات تھی تو کہا تھا نا۔ مزاح... Continue Reading →
شوہر کی تے نخرہ کی
(باس و بیگم سے معذرت کیساتھ) ایک تو میں پہلے ہی خواتین کے عالمی دن والی بات سے نالاں تھا اوپر سے باس و بیگم کی لا محدود خواہشات و توقعات کے بیچ پنگ بانگ بن کر اور تلملا گیا۔ سو نوکری اور شوہری کا تقابل کرنے کی ٹھانی ہے۔آخر کس نے یہ دن الاٹ... Continue Reading →
غزل | تمام شب غیر کے پہلو میں گزار کے
تمام شب غیر کے پہلو میں گزار کےاب یاد آئے ہیں انہیں وعدے پیار کےوہ دوستوں نے کئے ہیں کرم کہ کوئیکس منہ سے شکوے کرے اغیار کےسب لٹا کر عشق کی غارت گری میںاب کھلے ہم پہ جوہر اس جفا کار کے بام و در پہ مسلسل اترتی رہی خزاںاور تم کرتے رہے... Continue Reading →
ویمنز ڈے :خواتین کا عالمی دن
یقین جانیں میں نے کچھ نئیں تھا لکھنا ویمنز ڈے کے حوالے سے، کیوں؟ اسکی وجہ کنایتاً بیان کرچکا ہوں پہلے، تفصیلاً آگے چل کر بتاؤں گا۔ ویسے کوئی اگر یہ بتا دے کہ عورتوں کا دن منایا کیسے جائے؟ اگر آپ کہیں کہ خواتین کو اور انکے کام کو سراہا جائے تو وہ ایک دن... Continue Reading →
بلا عنوان
سردیوں کی طویل راتوں میں بے ربط گفتگو تا وقتِ سحرخامشی کے سلسلوں میں کہیں تمھاری سرگوشیوں کی لہربے نام آنسوؤں کے سیلِ رواں میںسسکیوں کا موہوم سا وقفہمجھے اب تلک یاد ہے وہ، آغازِ محبت کا پہلا مرحلہنہ جھگڑا خرد و جنوں کاوفا جفا کے وعدے نہ قسمیں کوئیسیدھی سی تھی سانسوں کی ڈوراک دوسرے... Continue Reading →
فرض کرو
فرض کرو ہم کبھی نہ ملے ہوتےدریدہ دل کے دامن میں اب جو ہیںکبھی وہ پھول نہ کھلے ہوتےکار ہائے دنیا سے جو ملے ہم کووہ چاک تمھاری رفاقتوں سے نہ سلے ہوتے!فرض کرو ہم کبھی نہ ملے ہوتےتو آج اس حسیں موڑ پر اجنبی جیسےمل بیٹھتے اور اک نیا آغاز کرتےتم اپنی مسکراہٹ سے... Continue Reading →