ہم نے مانا وہ حُسن و غنا کا پیکر لیکنہم رونق افروز نہ ہوں ، پہلوئے جانانہ کدھر جائیگایہ محفل نہ رہی، کہیں اور سہی، محفل تو جمے گیبادہ کش ہی جو نہ ہونگے تو مے خانہ کدھر جائیگاابھی رات جواں ہے، ابھی سے نہ بجھاوَ شمعوں کوشمع ... Continue Reading →
غزل | اسیری میں مر جانے دے ، قید سے اب آزاد نہ کر
اسیری میں مر جانے دے ، قید سے اب آزاد نہ کرتجھے واسطہ میری تباہی کا یہ ظلم میرے صیاد نہ کرنہ کر توہینِ محبت ، یوں وفا کی گواہی مانگ کرمجھے بھول چکی ہے دنیا ، اب تو بھی مجھے یاد نہ کربات تیری انا کی تھی ، میں... Continue Reading →
27th December: When Democracy was Silenced
It was a normal day, full of political activities. PPP and PML-N had their rallies. Political temperature of the federal capital was at its peak when suddenly a news channel broke the news about suicide attack in PPP’s jalsa in Liaqat Bagh hurting Benzir Bhutto seriously. Later the news of her demise appeared on television... Continue Reading →
نظم | چلو اک نظم لکھتے ہیں
چلو اک نظم لکھتے ہیںکسی کے نام کرتے ہیںمگر اب سوچنا یہ ہے،کہ اس میں ذکر کس کا ہواس میں بات کس کی ہواس میں ذات کس کی ہو،اور یہ بھی فرض کرتے ہیں،کہ جس پہ نظم لکھتے ہیںاس سے محبت کرتے ہیںہمارے سارے جذبوں کوبس اسکی ہی ضرورت ہےاظہار کی خاطراک نظم کی حاجت... Continue Reading →
غزل | بے وفا جو ہم نہیں ، با صفا تم بھی نہیں
بے وفا جو ہم نہیں ، با صفا تم بھی نہیںہم جو نہیں ، ترکِ تعلق کی وجہ تم بھی نہیںپھر کیا سبب رشتوں کا ایسے ٹوٹ جاناناراض ہم بھی نہیں ، خفا تم ... Continue Reading →
نظم | چاند کی چودھویں رات کا گیت
دن کا اجلا ماتھا چومورات سے گہری بات کروگنگناوَ گیت سرمئی شام کی چاہت کاافق سی کوئی سنہری بات کروذکر چھیڑو آج چاند ستاروں کابچھڑے ہوئے سب پیاروں کاپلکوں پہ تکے آنسو برسنے دوسینے میں مچلنے دو ارمانوں کودرد کے دریا کو احساس کے پار اترنے دوآنچ دینے دو سب زخموں کو آج کی رات... Continue Reading →
غزل | محبتوں کے اپنی ، آوَ سوگ ہم منائیں
محبتوں کے اپنی ، آوَ سوگ ہم منائیںشب ِ غم ک اک دوسرے کو داستاں سنائیںسوچیں اس زندگی کی مسکراہٹ کوتنہائی میں پھر بیٹھ کر آنسو بہائیںوا کریں، ذہن و دل سے ماضی کے دریچےاپنی فرصتوں کو یادوں سے اسکی سجائیںخزاں... Continue Reading →
محبت مر نہیں سکتی
محبت مر نہیں سکتیجیسے، پرندے فنا ہو بھی جائیں فضائیں برقرار رہتی ہیںدریا اپنا رُخ موڑ بھی لیں تولہریں اپنا نشان چھوڑ جاتی ہیںزمانے بدل جاتے ہیںنئی تہذیبیں جنم لیتی ہیںمگر وقت کی پیشانی سے،ان زمانوں کا نشاں مٹ نہیں سکتادرخت کٹ گرے تب بھی،جڑ کا نشاں تو باقی رہتا ہےایسے ہی، محبت مر نہیں سکتیمحبت... Continue Reading →