نظم | منظر


زمیں پہ کچھ جچتا ہے
نا آسماں کا چاند اچھا لگتا ہے
ٹھہرے ہوئے پانی میں جیسے
دھیرے دھیرے عکس چلتا ہے
میں جب بھی تم کو سوچتا ہوں
میرے ارد گرد ایسا منظر بنتا ہے
میں لمحے میں ٹھہرا رہ جاتا ہوں
اور لمحہ گزر جاتا ہے
مجھ پہ تمھاری یاد کا حال
کچھ ایسے آتا ہے
میں، میں نہیں رہتا
یاد کا مجسمہ ہوجاتا ہوں
اپنے سوا سب دکھائی دیتا ہے
جیسے آئینہ ہوجاتا ہوں میں
کہنے لگوں تو کبھی
موقع نہیں ملتا کبھی بات نہیں بنتی
بات ہے تو فقط اتنی سی،
محبت حد سے بڑھ جاتی ہے
تمھاری جب یاد آتی ہے

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s