نظم | غلط فہمی


دیکھو، یہ غلط فہمی رہنے دو

 کلئیر مت کرو

بات کلئیر ہوگئی تو

کوئی بات نہ رہے گی،

یہ جو دل میں بے کلی کے بے کسی کے ولولے ہیں

 برسوں انہیں پالا ہے میں نے

بہت مشکل سے اپنی خواہشوں کے

سانچے میں ڈھالا ہے میں نے

انہیں یوں رسوا نہ کرو

میرے دل کے نہاں خانوں میں رہنے دو

تم نہیں تھے تو یہی جذبے

مرے آنسوؤں کے مرے قہقہوں کے

میرے بے خواب رتجگوں کے

میری بے رنگ صبحوں کے

,میری بے زار راتوں کے

میری تنہائی کے ساتھی تھے

تمہی کہو اب میں کیسے

انہیں چھوڑ دوں

واماندہ محبت ہو کر ان سے

منہ موڑ لوں؟

تمہاری رفاقت کا کیا پل بھر ہے پھر کیا پتہ

یہ جذبے تو میرے اپنے ہیں

انہیں میرے پاس ہی رہنے دو

میرے زخموں کا یہ مرہم ہیں

میرے سپنوں کی دنیا میں اب

یہی مایوس تمنائیں ہم تم ہیں

دیکھو، یہ غلط فہمی رہنے دو

 کلئیر مت کرو

بات کلئیر ہوگئی تو

کوئی بات نہ رہے گی

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: