نظم | گلہ


 میں جب اُٹھ کے
جانے لگا تھا  تمھارے پہلو سے ،
تم نے کیوں روک نا لیا؟
 ہاتھ میرا تھام کر اپنے پاس
کیوں بٹھا نا لیا؟
ایسے جو چلا تو بہت دور چلا جاؤں گا،
کیا تم نہیں جانتے تھے
کیا تم نہیں جانتے تھے کہ تم سے الگ
زندگی عجب اک بار سا ہو اجائے گی
گھبرا کے زمانے کی چالوں سے ہم
کس کے پہلو میں اماں لیں گے؟
 کہاں ڈھونڈیں گے یہ ساحر آنکھیں
جن میں اک بار دیکھ کر خود کو بھول جائیں
ایسے ہونٹ جن پہ کھلتی ہے زندگی
تھکن سے چُور ہوجائیں گے جب
تو کن گھنیری زلفوں کے سائے میں آرام کریں گے
کیا تم نہیں جانتے تھے
 کہ تمھارے پہلو سے اُٹھتے جان جاتی ہے
کیا تم نہیں جانتے تھے کہ تم سے الگ
چلا ہوں تو دو قدم پہ لڑکھڑا جاؤں گا
اکیلا چلا ہوں تو بہت دور جا نا  پاؤں گا
تو کیوں تم نے روک نا لیا؟
میرا ہاتھ تھام کراپنے پاس،
کیوں بٹھا نا لیا؟
مجھے گلہ ہے تم سے۔۔۔۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: