نظم | ندیا پار رہتا ہوں


تم سے جب دور ہوتا ہوں
بہت مجبور ہوتا ہوں
کچھ کر نہیں سکتا
کچھ کہہ نہیں سکتا
سچ کہوں میں تم سے
اب دور رہ نہیں سکتا
شدتِ تنہائی سے جب
چُور ہوجاتا ہوں میں
تمھارے اتنا پاس ہوتا ہوں
کہ خود سے دور ہوجاتا ہوں میں
پھر یادوں کے سفینے پر
مہتاب کے سینے پر
خوابوں کی سیر کو نکلتا ہوں
خواہشوں کی رہگزر پہ ٹہلتا ہوں
ہوا سے کان لگا کر
تمھارے باتیں سنتا ہوں
سر دھنتا ہوں
پل پل گنتا ہوں
بہت بے چین رہتا ہوں
بہت بیقرار رہتا ہوں
ملنے آ نہیں سکتا
میں ندیا پار رہتا ہوں

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: