نظم | تمھارے لئے کیا لکھیں


آرزوئے وصل کریں کہ حرفِ دعا لکھیں
مسئلہ یہ ہے کہ تمھارے لئے کیا لکھیں
تمھارے لبوں کی تعریف کریں یا گالوں کو پھول لکھیں
تمھاری قامت پہ ہو گفتگو کہ گیسوؤں کو بادلوں کی دھول لکھیں
تمھاری مسکراہٹ کو تشبیہ دیں، چاندنی کے کھلنے سے
یا تیوری کو غمزہ و غشوہ و ادا لکھیں
مسئلہ یہ ہے کہ تمھارے لیئے کیا لکھیں
جو بارگہ ایزدی کبھی مجھے قوتِ اظہار دے
شعر وہ کہوں کہ حسنِ یار کو جو نکھار دے
مانگ میرے خیال کی سنوار دے
وہ لفظ کہاں سے ڈھونڈوں، کہ تمھارے شایاں ہو
وہ رمز کس سے مستعار لوں کہ بیکراں ہو
چہرے کو چاند کہیں، تکلم کو قضا لکھیں
مسئلہ یہ ہے کہ تمھارے لیئے کیا لکھیں
ہر اک بات کے ہر پہلو کو پھر سے سوچیں
کبھی گفتگو کے بیچ خامشی کا مطلب ڈھونڈیں
یادِ ماضی کو درد کہیں کہ دوا لکھیں
مسئلہ یہ ہے کہ تمھارے لیئے کیا لکھیں
وفا جفا جب نہیں ہے ہمارے قصے میں
پھر کیوں دوریاں ہیں حصے میں
تمھاری رفاقتوں کے دن یاد کریں
کبھی رو دیں، کبھی دل شاد کریں
نوشتہء وصل کہیں یا ہجراں کو سزا لکھیں

مسئلہ یہ ہے کہ تمھارے لیئے کیا لکھیں

One thought on “نظم | تمھارے لئے کیا لکھیں

Add yours

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: